Share
"اُردو کالمز" بلاگ پر خوش آمدید۔ بلاگ کو زیادہ سہولت کیساتھ ڈائنامک ویو (Dynamic View) میں دیکھنے اور پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں:

Monday, September 24, 2012

اگر اوبامہ جیت گئے ....؟


 باراک اوبامہ کے چہرے پر ایک حیا اور بے ساختگی رہتی ہے۔ سامنے آتے ہی مسکراتے ہیں۔ اور یہ عندیہ دیتے ہیں کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہے اور ہر مسئلے کو صلح جوئی سے حل کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کئی بین الاقوامی فورمز پر حاضر دماغی اور حاضر جوابی کا ثبوت دیا ہے۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر نہیں پیدا ہوئے.... وہ جو ابتدائی زندگی انہوں نے چھ سال تک گزاری ہے اس نے انہیں ایسی بلوغت عطا کی .... کہ کارزار سیاست میں وہ کئیوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی نہ صرف امریکہ کی ریاستوں میں بلکہ پوری دنیا میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ اوبامہ کہ مِٹ رومنی....؟ سروے کی رپورٹوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں بیروزگاری بڑھی ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ ہیلتھ کیئر اور سکیورٹی کا نظام بھی معیاری نہیں رہا۔ کرنسی کا پھیلا۔اس کے علاوہ کئی اور مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ووٹروں کیلئے اقتصادی نظام ہی سب سے اتم مسئلہ ہوتا ہے۔ بیروزگاری دوسری جنگ عظیم کے بعد 8 فیصد سے زیادہ چل رہی ہے.... دوسری طرف تقابل کیا جا رہا ہے کہ سابق صدر آئزن ہاور کمزور اقتصادی نظام کے باوجود 1956ءمیں دوبارہ صدر منتخب ہو گئے تھے۔ یہی کچھ جارج ڈبلیو بش کے ساتھ بھی ہوا تھا کہ ان کے زمانے میں اقتصادی نظام کی عام اضافہ شرح اوسط سے کافی نیچے یعنی 2,8 ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود جارج بش ڈبلیو جیت گئے تھے۔ جیتنے کیلئے سارے ارتقائی اور معاشی مسئلوں کے علاوہ قسمت کا دھنی ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگرچہ بل کلنٹن نے اوبامہ کے تعارف میں ایک مضحکہ خیز انداز اختیار کیا۔ اور کہا کہ یہ شخص ہمارا بستہ اٹھا کے چلتا تھا یا ہمیں چائے پیش کرتا تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قدرت یہی تو آپ کو دکھانا چاہتی ہے۔ آپ کے آگے کام کرنے والے آپ کے بادشاہ بن سکتے ہیں اور یہ ہر ملک میں ہوتا ہے۔ باراک اوبامہ کا ماضی کیسا بھی رہا ہو۔ اس کا مستقبل ایسا ہی ہونا تھا۔ امریکن اپنے ووٹ کی قدر و قیمت بھی جانتے ہیں اور ووٹ کا استعمال بھی.... کسی بھی ملک کے عوام کو پیٹ بھر کر روٹی‘ مناسب روزگار اور امن عامہ درکار ہوتا ہے۔ ابھی بھی امریکہ کے عام لوگ اظہار رائے میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ اقتصادی نظام سدھر رہا ہے۔ یہ سدھار کی طرف جا رہا ہے۔ بہت سارے امریکی دل برداشتہ نہیں ہیں.... لیکن آگے مقابلہ بھی سخت ہے۔ مٹ رومنی اپنی شخصی وجاہت کے بوتے پر آگے آ رہے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے جو لائحہ عمل دیا ہے اس میں وہ کہتے ہیں۔ امیروں سمیت ہر شخص پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہونا چاہئے۔ کاروبار کو کئی ضابطوں سے آزاد ہونا چاہئے۔ قومی زندگی میں سرکار کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ یا بہت ہی کم ہونی چاہئے۔ وہ اپنی تقریروں میں دعوے کرتے ہیں کہ اگلے چار برسوں میں بارہ لاکھ روزگار کے مواقع مہیا کریں گے۔ وہ بجٹ کا خسارہ کم کرنے کیلئے اوبامہ کی طرف سے لگائی گئی بندشوں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ ان تجاویز کے آگے باراک اوبامہ نے دو مہمیں فوراً شروع کر دی تھیں۔ ایک مہم تو ان کے حریف مِٹ رومنی کے خلاف تھی اور دوسری اقتصادی نظام کی زبوں حالی کے خلاف تھی۔ اوبامہ کی اشتہاری مہم میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ”وہ کم دے رہا ہے۔ آپ زیادہ ادا کر رہے ہیں“۔ دونوں امیدوار اپنے اپنے اقتصادی ایجنڈے سے ووٹروں کا دل جیتنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اب ایک موقع مِٹ رومنی کیلئے فلوریڈا میں آنے والا ہے۔ ریپبلکن نیشنل کانفرنس میں کس قدر زور بیان صرف کرتے ہیں۔ اور پھر اکتوبر کے مہینے میں تین پریذیڈینشل ڈیبیٹس بھی ہونے جا رہی ہیں.... کیا مٹ رومنی ان میں بھی اپنی ہی رام کہانی سنائیں گے.... یا عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں گے۔ امریکی صدارتی انتخابات کا طریقہ¿ کار ایک ایسا میزانیہ ہے۔ جس میں شخصیات کے منفی اور مثبت پہلو صاف نظر آتے ہیں۔ ایسی تقریبات میں سوالات پتھروں کی طرح آتے ہیں اور جوابات پھولوں کی طرح جاتے ہیں۔ اگر جواب بھی پتھر کی طرح آئے تو ووٹر پتھر ہو جاتے ہیں۔ دونوں امیدوار ایک دوسرے کے بخیے بھی ادھیڑتے ہیں۔ مگر شائستگی اور لفاظی کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں اور ووٹروں کو پتہ بھی چل جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے....؟ ہمارے ہاں معاملہ بالکل الٹ جاتا ہے۔ ہمارے لیڈران کرام سیاسی جنگ میں اخلاق و ضابطے کی ساری حدود پار کر جاتے ہیں۔ پھر گزری صدیوں کے الزام بھی نکال کر لے آتے ہیں۔ مشتعل کرتے ہیں اور مشتعل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اشتعال کا بہت استعمال ہوتا ہے.... کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے.... مگر کچھ باتیں ابھی ہیں۔ جن کا ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق امریکی کہہ رہے ہیں کہ اگر اوبامہ پھر جیت گئے تو کم از کم وہ پہلے صدر ہوں گے جو ایک نسل تک ایسے صدر کہلائیں گے کہ جن کے عوام اپنے آپ کو 2008ء کے مقابلے میں اپنے حالات کو بہتر نہیں سمجھ رہے.... اور اگر ایسے خدشوں اور ان امیدوں کے ساتھ کہ اوبامہ دوسری ٹرم میں اپنے حالات سنبھال لیں گے.... اگر اوبامہ صدر بن جاتے ہیں۔ تو لوگوں کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنے کے ان کے پاس کئی مواقع ہوں گے۔ چار سالہ تجربہ بھی ان کے پاس ہو گا اور اپنی گذشتہ غلطیوں پر نظر ڈالنے کی گنجائش بھی ہو گی۔ دنیا چاہے کتنی ترقی پسند ہو جائے۔ جنگوں کو پسند نہیں کرتی۔ مسلم دنیا میں ایک ایسا حصہ ہے جو جنگی پالیسیوں اور امریکہ کی دوہری پالیسیوں کو پسند نہیں کرتا۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کا ساتھ دیا ہے اور امریکہ کو دوست بھی کہا ہے۔ مگر اس دوستی کے ثمرات عام آدمی کو نظر نہیں آتے۔ قرضے تو ایک قسم کا جال ہوتے ہیں۔ ان کے اندر تیسری دنیا کے ملک ہاتھ پاؤں مارتے ہیں۔ مگر نکل نہیں سکتے۔ امداد ایک ایسی رکابی کی طرح ہوتی ہے جس میں چھید ہوتا ہے۔ جو ڈالتے جاتے ہیں۔ وہ نکلتا جاتا ہے.... امریکہ کی بعض پالیسیوں میں بہت تضاد ہے.... آج ساری دنیا کو امن روٹی اور پانی درکار ہے۔ جس کے پاس یہ چیزیں ہیں۔ وہی سپرپاور ہے۔ پھر بھی ساری دنیا امریکہ کے نومبر میں ہونے والے انتخابات کی طرف دیکھ رہی ہے.... باراک اوبامہ کے چہرے پر ابھی تک اعتماد بھری مسکراہٹ اور حیا بھری بے ساختگی ہے! اگر اوبامہ یہ صدارتی انتخاب جیت گئے تو سب سے پہلے کیا کریں گے....؟؟

0 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں :-

ضروری بات : غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے ۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

Urdu Columns Pk
 
اُردو کالمز | #1 اردو کالمز بلاگ 2011 - 2014